کارکلا،10؍جنوری (ایس او نیوز) باڑے میں گھس کر مویشی چرا لے جانے کی وارداتیں ساحلی علاقے میں کس حد تک بڑھ گئی ہیں اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ کارکلا کے دیہی علاقہ میں رہنے والی یشودا اچاریہ (58 سال) کی 16 گائیں گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران مویشی چوروں کے ہتھے چڑھ گئیں ۔
ایک رپورٹ کے مطابق یشودا اچاریہ ایک بیوہ ہے ، اور وہ کارکلا تعلقہ کے کاجے نامی گاوں کے ایک چھوٹے سے گھر میں اپنی بیٹی کے ساتھ رہتی ہے جو مین روڈ سے 15کلو میٹر اندر کی طرف واقع ہے۔ اس کا شوہر 24 سال قبل ایک حادثہ میں ہلاک ہوگیا تھا ۔ یشودا اور اس کی بیٹی نے زندگی گزارنے کے لئے گزشتہ 18 سال سے گائیں پال کر دودھ بیچنے کا کام اپنایا ہے ۔
بتایا جاتا ہے کہ اس علاقہ میں پچھلے کچھ برسوں سے مویشی چوروں کا زور بڑھتا جا رہا ہے ۔ یہ لوگ راتوں کو مویشیوں کے باڑے میں گھس کر جانور چرا لے جانے میں کوئی جھجھک محسوس نہیں کرتے ۔ اگر گھر کے لوگ انہیں روکنے کی کوشش کرتی ہیں تو چھوٹی تلواریں اور دیگر دھار دار ہتھیار نکالتے ہیں جس کی وجہ سے مویشیوں کے مالک گھر کے اندر ہی دبک کر بیٹھنے پر مجبور ہوجاتے ہیں ۔ اکثر یوں بھی ہوتا ہے کہ دن کے وقت جو مویشی چارہ چرنے کے لئے چھوڑے جاتے ہیں انہیں سنسان علاقوں سے دن دہاڑے چرا لیا جاتا ہے ۔
یشودا کا کہنا ہے کہ گزشتہ 18 مہینوں کے دوران یکے بعد دیگرے اس کی 16 گائیں مویشی اٹھا کر لے گئے ۔ تازہ واقعہ 3 جنوری کو پیش آیا جب اس کے باڑے سے پوری طرح حاملہ گائے چوری کرلی گئی ۔ ماں اور بیٹی نے چوروں کے باڑے کے اندر گھسنے کی آوازیں سنیں مگر باہر نکل کر چوروں کو روکنے کی ہمت وہ دکھا نہیں سکے اور گھر کے اندر ہی آنسو بہاتے بیٹھے رہے ۔
یشودا کا اپنا دکھڑا سناتے ہوئے کہتی ہے کہ اسے اپنی گایوں سے 25 تا 30 لیٹر دودھ ملتا تھا جو وہ ڈیری فارم میں فروخت کرتی تھی ۔ اسی بھروسہ پر ماں بیٹی نے نیا گھر بنانے کے لئے بینک سے 6 لاکھ روپے کا قرضہ اٹھایا ہے ۔ لیکن گھر کی تعمیر ابھی مکمل نہیں ہوئی ہے ۔ اور دھیرے دھیرے اس کی گائیں چوری ہوگئیں ۔ اور اب اپنی قسمت کو کوسنے کے سوا اس کے پاس کوئی دوسرا چارہ نہیں بچا ہے۔